ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری مسئلہ پر کنڑا تنظیموں کا ریل بند ناکام ؛ وزیراعلیٰ سدرامیا کا ماہرین قانون سے تفصیلی تبادلہ خیال

کاویری مسئلہ پر کنڑا تنظیموں کا ریل بند ناکام ؛ وزیراعلیٰ سدرامیا کا ماہرین قانون سے تفصیلی تبادلہ خیال

Fri, 16 Sep 2016 00:21:14    S.O. News Service

 

بنگلورو۔15/ستمبر(ایس او نیوز) کاویری تنازعہ کے سلسلہ میں آج مختلف کنڑا نواز تنظیموں نے ریل بند احتجاج کرنے کی جو آواز دی تھی اسے سخت حفاظتی انتظامات کے نتیجہ میں ناکام بنادیا گیا۔ شہر کے تمام ریلوے اسٹیشنوں پر معقول حفاظتی انتظامات کے درمیان ریلوں کی آمد ورفت میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں آئی۔ ریلوے اسٹیشنوں میں گھسنے کنڑا کارکنوں کی کوشش کو روکتے ہوئے پولیس نے احتجاجی لیڈران واٹال ناگراج، پروین شٹی، سارا گووند وغیرہ کو گرفتار کرلیا۔ نہ صرف بنگلور بلکہ شیموگہ، کولار، ٹمکور، ڈوڈ بالاپوروغیرہ میں بھی مختلف کنڑا نواز تنظیموں نے ریل روکو احتجاج کرنے کیلئے اسٹیشنوں میں گھسنے کی کوشش کی اور پولیس نے انہیں احتیاطی طور پر گرفتار کرلیا۔ میجسٹک ریلوے اسٹیشن کے قریب گرفتاری دیتے ہوئے واٹال ناگراج نے کہاکہ ریاستی حکومت کو فوراً تملناڈو کو پانی کی فراہمی روک دینی چاہئے۔احتجاجیوں کی گرفتاری کا سلسلہ اگرجاری رکھا گیاتو ریاست بھر میں شدید احتجاج کیاجائے گا۔ باگلکوٹ، ہبلی، بیجاپو ر، کوپل، میسور، چترادرگہ، داونگیرے سمیت دیگر مقامات پر آج صبح سے ہی ریلوں کی آمد ورفت حسب معمول رہی، تاہم احتجاجیوں کی طرف سے ریل گاڑیاں روکے جانے یا پٹریوں کو نقصان پہنچانے کے خدشات کو دیکھتے ہوئے ریل گاڑیوں میں مسافروں کی تعداد بہت کم رہی۔ بنگلور، میسور چامنڈی ایکسپریس، ارسیکیرے ایکسپریس، پاٹلی پترا ایکسپریس، شتابدی ایکسپریس، یرنا کولم ایکسپریس، لال باغ ایکسپریس، چامراج نگر ایکسپریس، تنجاور ایکسپریس، ماری کپم پاسنجر، چنئی میسور ایکسپریس وغیرہ میں آج مسافرنہ ہونے کے برابر تھے۔ شہر کے کے ایس آر سٹی ریلوے اسٹیشن، کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن، یشونت پور ریلوے اسٹیشن، منڈیا، میسور، ٹمکور، داونگیرے، ہبلی، شیموگہ، ریلوے اسٹیشنوں پر حفاظتی انتظامات کیلئے مرکزی حکومت سے طلب کردہ انڈوتبت سرحدی فورس، سریع الحرکت دستے، ریاستی ریزرو پولیس فورس، ریلوے پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس، سی آئی ایس ایس اور دیگر ٹکڑیوں کے جوانوں کو متعین کیاگیاتھا۔ اس دوران شہر کے 16پولیس تھانوں کی حدود میں پرتشدد واقعات کے بعد جو کرفیو کل تک لاگو تھااسے ہٹائے جانے کے بعد شہر بھر میں 25 ستمبر تک امتناعی احکامات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہر بھر میں مرکزی دستوں سمیت ریاستی ریزرو پولیس، ہوم گارڈ وغیرہ کی تعیناتی برقرار رکھی گئی ہے۔ فساد سے متاثرہ علاقوں میں پندرہ ہزار سے زائد جوان متعین ہیں۔منڈیا میں بھی معقول حفاظتی انتظامات برقرار رکھے گئے ہیں۔

 

کاویری مسئلہ پر مودی کی مداخلت واحد چارہ
وزیراعلیٰ سدرامیا کا ماہرین قانون سے تفصیلی تبادلہ خیال

بنگلورو۔15/ستمبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کے تنازعہ کو سلجھانے کیلئے قانونی حکمت عملی کے سلسلے میں آج ریاست کے ممتاز ماہرین قانون سے تفصیلی بات چیت کی، اپنی سرکاری رہائش گاہ کرشنا میں منعقدہ میٹنگ میں حکومت کرناٹک کی طرف سے سپریم کورٹ میں تملناڈو کے ساتھ جاری قانونی جنگ کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی پر مشورے طلب کئے۔ کاویری تنازعہ پر وزیراعظم مودی کو مداخلت کیلئے آمادہ کرنے اور کرناٹک اور تملناڈو میں ہوئے حالیہ پرتشدد واقعات کو دیکھتے ہوئے مرکزپر دباؤ بڑھانے کے تناظر میں میٹنگ کو کافی اہمیت کی حامل ماناجارہا ہے۔میٹنگ میں وزیراعلیٰ نے تشویش ظاہر کی کہ کاویری تنازعہ کے سلسلے میں فوری طور پر وزیراعظم نے مداخلت نہیں کی اورٹال مٹول کا رویہ برقرار رکھا تو آنے والے دنوں میں حالات کے مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر وزیراعظم سے تبادلہئ خیال کیلئے وہ ریاست کے ماہرین قانون کو دہلی لے جائیں گے۔ پانی کی تقسیم کے معاملہ میں دو ریاستوں کے درمیان پیدا بحران کو سلجھانے کیلئے وزیراعظم کو مداخلت کرنے کا اختیار قانون کے تحت بھی حاصل ہے۔ سدرامیا نے بتایاکہ19/ ستمبر کو کاویری نگرانی کمیٹی کی میٹنگ ہے اور 20 ستمبر کو سپریم کورٹ میں دوبارہ کاویری مسئلہ پر سماعت ہوگی۔ اس مرحلے تک اگر وزیراعظم نے مداخلت کرکے کاویری معاملہ کو نہیں سلجھایا، نگران کمیٹی اور سپریم کورٹ میں اگر فیصلہ کرناٹک کے خلاف ہوا تو اس کے بعد حالات سے نمٹنے میں حکومت بھی بے بس ہوجائے گی۔ میٹنگ میں ماہرین قانون نے رائے ظاہر کی کہ کاویری طاس میں پانی کی مقدار جاننے کیلئے ماہرین کی ایک ٹیم روانہ کرنے مرکزی حکومت، کاویری نگرانی کمیٹی اور سپریم کورٹ پر زور دیا جائے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق فی الوقت کرناٹک تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کے موقف میں بالکل نہیں ہے۔ عدالت کی حکم عدولی نہ ہونے پائے اس کیلئے مجبوراً پانی جاری کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے آبی ذخائر میں پانی کی سطح مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے فوری طور پر تملناڈو کو پانی کی فراہمی روک دینا ناگزیر ہوچکا ہے، اسی لئے ماہرین قانون سے وزیر اعلیٰ نے گذارش کی کہ اگلی قانونی حکمت عملی کے متعلق رہنمائی کریں۔ وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ 20 ستمبر تک اگر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تملناڈو کو پانی جاری کیاگیا تو منڈیا، میسور اور بنگلور کو پینے کا پانی فراہم کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ساتھ ہی کاویری کے پانی پر ہی بھروسہ کرکے کاشتکاری کرنے والے رعیت دیوالیہ ہوجائیں گے۔ وفاقی نظام کے تحت ریاستی حکومت مجبوراً سپریم کورٹ کے فیصلے کی تعمیل کررہی ہے، اسی لئے سپریم کورٹ کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ فی الوقت کرناٹک بہت مشکل میں ہے، اسی لئے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے پر عدالت عظمیٰ بضد نہ رہے۔ وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا، وزیر آبی وسائل ایم بی پاٹل، چیف سکریٹری اورند جادھو، محکمہئ آبی وسائل کے پرنسپل سکریٹری راکیش سنگھ، ریاست کے وظیفہ یاب ججس جسٹس رما جائس، اے جے سدا شیوا، راجیندر بابو، این کمار،ریاستی اڈوکیٹ جنرل مدھو سودھن نائک، اڈیشنل اڈوکیٹ جنرل پننا، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل موہن کتارکی،سابق اڈوکیٹ جنرل روی ورما کمار، بی وی آچاریہ، اشوک ہارن ہلی، رکن کونسل وی ایس اگرپا، پی گووند راج وغیرہ میٹنگ میں موجود تھے۔


کاویری مسئلہ پر ماہرین قانون نے کئی مفید مشورے دئے:ایم بی پاٹل
بنگلورو۔15/ستمبر(ایس او نیوز) کاویری مسئلے پرریاستی حکومت، عوام اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کی پابند ہے۔سپریم کورٹ اور کاویری نگرانی کمیٹی کے سامنے حکومت اسی مقصد کو سامنے رکھ کر موثر پیروی کرنے کیلئے پوری طرح مستعد ہورہی ہے۔ ماہرین قانون نے اس سلسلے میں ریاستی حکومت کی تفصیلی رہنمائی کی ہے۔ ان ماہرین کے مشوروں کی بدولت حکومت کو کاویری تنازعہ سے نمٹنے میں کافی مدد ملی ہے۔ یہ بات آج وزیر آبی وسائل ایم بی پاٹل نے کہی۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کے ساتھ ماہرین قانون کی میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر پاٹل نے کہاکہ کاویری تنازعہ اور قانونی حکمت عملی پر سدرامیا نے ماہرین قانون سے تفصیلی تبادلہئ خیال کیا۔ میٹنگ میں شریک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق ججوں اور اڈوکیٹ جنرلس سمیت دیگر ماہرین نے کاویری مسئلے پر تفصیلی روشنی ڈالی، ان کے سامنے وزیراعلیٰ نے ریاست کے آبی ذخائر کی موجودہ صورتحال اور اب تک حکومت کی طرف سے کئی گئی قانونی کار گذاریوں کی تفصیل رکھی اور آگے کی حکمت عملی کے بارے میں ان سے مشورے طلب کئے۔ بیشتر شرکاء نے اپنے اپنے قانونی تجربات کی روشنی میں حکومت کو کئی مفید مشورے پیش کئے ہیں۔ اب تک حکومت کی طرف سے کاویری مسئلے پر کی گئی پیروی پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور آنے والے دنوں میں کیا حکمت عملی اپنائی جائے اس بارے میں بھی تفصیلات جاننے کے بعد کئی مفید مشورے دئے گئے۔ وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے میٹنگ کے دوران حکومت کی طرف سے اب تک ہوئی قانونی کارگذاریوں کی تفصیل پیش کی اور رہنمائی کی گذارش کی۔ مسٹر پاٹل نے بتایاکہ سپریم کورٹ اور کاویری نگرانی کمیٹی کے روبرو 19/ اور 20 ستمبر کو پیش ہوتے وقت حکومت کو کیا موقف اپنانا چاہئے، اس کی ترتیب ماہرین کے مشورہ کے مطابق تیار کی جائے گی۔ 


 


Share: