کاویری مسئلہ پر مودی کی مداخلت واحد چارہ
وزیراعلیٰ سدرامیا کا ماہرین قانون سے تفصیلی تبادلہ خیال
بنگلورو۔15/ستمبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کے تنازعہ کو سلجھانے کیلئے قانونی حکمت عملی کے سلسلے میں آج ریاست کے ممتاز ماہرین قانون سے تفصیلی بات چیت کی، اپنی سرکاری رہائش گاہ کرشنا میں منعقدہ میٹنگ میں حکومت کرناٹک کی طرف سے سپریم کورٹ میں تملناڈو کے ساتھ جاری قانونی جنگ کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی پر مشورے طلب کئے۔ کاویری تنازعہ پر وزیراعظم مودی کو مداخلت کیلئے آمادہ کرنے اور کرناٹک اور تملناڈو میں ہوئے حالیہ پرتشدد واقعات کو دیکھتے ہوئے مرکزپر دباؤ بڑھانے کے تناظر میں میٹنگ کو کافی اہمیت کی حامل ماناجارہا ہے۔میٹنگ میں وزیراعلیٰ نے تشویش ظاہر کی کہ کاویری تنازعہ کے سلسلے میں فوری طور پر وزیراعظم نے مداخلت نہیں کی اورٹال مٹول کا رویہ برقرار رکھا تو آنے والے دنوں میں حالات کے مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر وزیراعظم سے تبادلہئ خیال کیلئے وہ ریاست کے ماہرین قانون کو دہلی لے جائیں گے۔ پانی کی تقسیم کے معاملہ میں دو ریاستوں کے درمیان پیدا بحران کو سلجھانے کیلئے وزیراعظم کو مداخلت کرنے کا اختیار قانون کے تحت بھی حاصل ہے۔ سدرامیا نے بتایاکہ19/ ستمبر کو کاویری نگرانی کمیٹی کی میٹنگ ہے اور 20 ستمبر کو سپریم کورٹ میں دوبارہ کاویری مسئلہ پر سماعت ہوگی۔ اس مرحلے تک اگر وزیراعظم نے مداخلت کرکے کاویری معاملہ کو نہیں سلجھایا، نگران کمیٹی اور سپریم کورٹ میں اگر فیصلہ کرناٹک کے خلاف ہوا تو اس کے بعد حالات سے نمٹنے میں حکومت بھی بے بس ہوجائے گی۔ میٹنگ میں ماہرین قانون نے رائے ظاہر کی کہ کاویری طاس میں پانی کی مقدار جاننے کیلئے ماہرین کی ایک ٹیم روانہ کرنے مرکزی حکومت، کاویری نگرانی کمیٹی اور سپریم کورٹ پر زور دیا جائے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق فی الوقت کرناٹک تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کے موقف میں بالکل نہیں ہے۔ عدالت کی حکم عدولی نہ ہونے پائے اس کیلئے مجبوراً پانی جاری کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے آبی ذخائر میں پانی کی سطح مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے فوری طور پر تملناڈو کو پانی کی فراہمی روک دینا ناگزیر ہوچکا ہے، اسی لئے ماہرین قانون سے وزیر اعلیٰ نے گذارش کی کہ اگلی قانونی حکمت عملی کے متعلق رہنمائی کریں۔ وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ 20 ستمبر تک اگر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تملناڈو کو پانی جاری کیاگیا تو منڈیا، میسور اور بنگلور کو پینے کا پانی فراہم کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ساتھ ہی کاویری کے پانی پر ہی بھروسہ کرکے کاشتکاری کرنے والے رعیت دیوالیہ ہوجائیں گے۔ وفاقی نظام کے تحت ریاستی حکومت مجبوراً سپریم کورٹ کے فیصلے کی تعمیل کررہی ہے، اسی لئے سپریم کورٹ کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ فی الوقت کرناٹک بہت مشکل میں ہے، اسی لئے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے پر عدالت عظمیٰ بضد نہ رہے۔ وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا، وزیر آبی وسائل ایم بی پاٹل، چیف سکریٹری اورند جادھو، محکمہئ آبی وسائل کے پرنسپل سکریٹری راکیش سنگھ، ریاست کے وظیفہ یاب ججس جسٹس رما جائس، اے جے سدا شیوا، راجیندر بابو، این کمار،ریاستی اڈوکیٹ جنرل مدھو سودھن نائک، اڈیشنل اڈوکیٹ جنرل پننا، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل موہن کتارکی،سابق اڈوکیٹ جنرل روی ورما کمار، بی وی آچاریہ، اشوک ہارن ہلی، رکن کونسل وی ایس اگرپا، پی گووند راج وغیرہ میٹنگ میں موجود تھے۔
کاویری مسئلہ پر ماہرین قانون نے کئی مفید مشورے دئے:ایم بی پاٹل
بنگلورو۔15/ستمبر(ایس او نیوز) کاویری مسئلے پرریاستی حکومت، عوام اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کی پابند ہے۔سپریم کورٹ اور کاویری نگرانی کمیٹی کے سامنے حکومت اسی مقصد کو سامنے رکھ کر موثر پیروی کرنے کیلئے پوری طرح مستعد ہورہی ہے۔ ماہرین قانون نے اس سلسلے میں ریاستی حکومت کی تفصیلی رہنمائی کی ہے۔ ان ماہرین کے مشوروں کی بدولت حکومت کو کاویری تنازعہ سے نمٹنے میں کافی مدد ملی ہے۔ یہ بات آج وزیر آبی وسائل ایم بی پاٹل نے کہی۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کے ساتھ ماہرین قانون کی میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر پاٹل نے کہاکہ کاویری تنازعہ اور قانونی حکمت عملی پر سدرامیا نے ماہرین قانون سے تفصیلی تبادلہئ خیال کیا۔ میٹنگ میں شریک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق ججوں اور اڈوکیٹ جنرلس سمیت دیگر ماہرین نے کاویری مسئلے پر تفصیلی روشنی ڈالی، ان کے سامنے وزیراعلیٰ نے ریاست کے آبی ذخائر کی موجودہ صورتحال اور اب تک حکومت کی طرف سے کئی گئی قانونی کار گذاریوں کی تفصیل رکھی اور آگے کی حکمت عملی کے بارے میں ان سے مشورے طلب کئے۔ بیشتر شرکاء نے اپنے اپنے قانونی تجربات کی روشنی میں حکومت کو کئی مفید مشورے پیش کئے ہیں۔ اب تک حکومت کی طرف سے کاویری مسئلے پر کی گئی پیروی پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور آنے والے دنوں میں کیا حکمت عملی اپنائی جائے اس بارے میں بھی تفصیلات جاننے کے بعد کئی مفید مشورے دئے گئے۔ وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے میٹنگ کے دوران حکومت کی طرف سے اب تک ہوئی قانونی کارگذاریوں کی تفصیل پیش کی اور رہنمائی کی گذارش کی۔ مسٹر پاٹل نے بتایاکہ سپریم کورٹ اور کاویری نگرانی کمیٹی کے روبرو 19/ اور 20 ستمبر کو پیش ہوتے وقت حکومت کو کیا موقف اپنانا چاہئے، اس کی ترتیب ماہرین کے مشورہ کے مطابق تیار کی جائے گی۔